حضرت عباسؑ کا عَلم اور فرات کا واقعہ
Author: Admin Labels:: حضرت عباس, کربلاکربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر سورج آگ کے گولے کی طرح جھلسا رہا تھا۔ محرم سن 61 ہجری کے وہ دن تھے جب عراق کے میدانوں میں گرمی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی۔ دریائے فرات کے کنارے ہوا کے جھونکے تو چلتے تھے، مگر میدانِ کربلا کے خیموں تک پہنچتے پہنچتے وہ بھی جیسے آگ کا روپ دھار لیتے تھے۔ دور افق پر ریت کے ذرے سورج کی شعاعوں سے چمکتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین اور آسمان کے درمیان ایک دہکتا ہوا پردہ تن گیا ہو۔
کربلا، جو اس زمانے میں کوفہ سے شمال مغرب کی سمت واقع ایک نسبتاً غیر آباد میدان تھا، فرات کے کنارے پھیلے ہوئے کھجوروں کے جھنڈوں، چھوٹی آبادیوں اور چراگاہوں کے درمیان واقع تھا۔ اس کے مشرق میں صحرا پھیلا ہوا تھا جبکہ مغرب میں فرات کی نیلگوں موجیں زندگی کا پیغام دیتی تھیں۔ یہی دریا صدیوں سے عراق کی تہذیبوں کا محافظ تھا۔ اس کے کنارے بستیاں آباد تھیں، قافلے گزرتے تھے، کھجوروں کے باغ لہلہاتے تھے اور کسان اپنی زمینوں کو سیراب کرتے تھے۔ مگر محرم کے ان دنوں میں یہی دریا ایک ایسے المیے کا خاموش گواہ بننے والا تھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکی۔
امام حسینؑ کے خیموں میں بچے پیاس سے نڈھال تھے۔ عورتوں کے چہروں پر صبر کی چادر تھی لیکن آنکھوں میں فکر کی نمی نمایاں تھی۔ پانی کے مشکیزے خالی ہو چکے تھے۔ چند دن پہلے تک فرات کا پانی دستیاب تھا، مگر سات محرم کو ابن زیاد کے حکم پر عمر بن سعد کے لشکر نے دریا تک رسائی بند کر دی۔ چار ہزار کے قریب سپاہیوں کو فرات کے کنارے تعینات کر دیا گیا تاکہ امام حسینؑ کے ساتھی پانی حاصل نہ کر سکیں۔
اس ماحول میں ایک شخصیت ایسی تھی جسے دیکھ کر اہلِ حرم کے دل مضبوط ہو جاتے تھے۔ یہ حضرت عباس بن علیؑ تھے۔ آپؑ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے سوتیلے بھائی تھے۔ آپؑ کی والدہ حضرت ام البنینؑ تھیں، جو عرب کے ایک بہادر اور معزز قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضرت عباسؑ بچپن ہی سے شجاعت، وفاداری اور ایثار کے اوصاف میں ممتاز تھے۔ آپؑ کا قد بلند، جسم مضبوط اور شخصیت رعب دار تھی۔ عرب کے جنگجو آپؑ کو "قمر بنی ہاشم" یعنی بنی ہاشم کا چاند کہا کرتے تھے۔
کربلا میں حضرت عباسؑ کے ہاتھ میں جو علم تھا، وہ محض ایک جھنڈا نہیں تھا۔ عرب معاشرے میں علم لشکر کی عزت، استقامت اور وحدت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے دوران اگر علم گر جاتا تو اسے شکست کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ اسی لیے علم ہمیشہ سب سے زیادہ بہادر اور قابلِ اعتماد شخص کے سپرد کیا جاتا تھا۔ امام حسینؑ نے یہ عظیم ذمہ داری حضرت عباسؑ کو سونپی۔ اس انتخاب میں صرف خاندانی تعلق نہیں بلکہ بے مثال وفاداری اور شجاعت بھی شامل تھی۔
محرم کے ابتدائی دنوں میں جب یزیدی لشکر چاروں طرف سے جمع ہو رہا تھا، حضرت عباسؑ علم اٹھائے امام حسینؑ کے خیموں کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ جب رات کی تاریکی میدان پر اترتی اور دشمن کے خیموں میں مشعلیں جل اٹھتیں تو حضرت عباسؑ پہرے پر موجود ہوتے۔ آپؑ کی موجودگی اہلِ بیتؑ کے لیے تحفظ اور اطمینان کا ذریعہ تھی۔
وقت گزرتا گیا اور پیاس کی شدت بڑھتی گئی۔ خیموں میں بچوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ "العطش، العطش" کی صدائیں فضا میں گونجتی تھیں۔ چھوٹے بچے خشک ہونٹوں کے ساتھ پانی مانگتے تھے۔ یہ منظر کسی بھی حساس دل کو پگھلا دینے کے لیے کافی تھا۔
حضرت عباسؑ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امام حسینؑ کے ساتھی بھوک اور پیاس برداشت کر سکتے ہیں، مگر معصوم بچوں کی تکلیف دیکھنا آسان نہیں۔ ایک وقت آیا جب آپؑ نے امام حسینؑ سے اجازت طلب کی کہ فرات سے پانی لانے کی کوشش کریں۔ روایات کے مطابق امام حسینؑ نے اجازت عطا فرمائی۔
میدانِ کربلا کا منظر اس وقت نہایت عجیب تھا۔ ایک طرف ہزاروں مسلح سپاہی تھے اور دوسری طرف چند درجن وفادار جانثار۔ حضرت عباسؑ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ ہاتھ میں علم تھا اور دل میں اہلِ بیتؑ کی پیاس بجھانے کا عزم۔ آپؑ کا رخ فرات کی جانب تھا۔
فرات تک جانے والا راستہ دشمن کے سپاہیوں سے بھرا ہوا تھا۔ گرد و غبار اڑ رہا تھا، تلواریں چمک رہی تھیں اور نیزوں کے سائے زمین پر پھیل رہے تھے۔ مگر حضرت عباسؑ کی ہیبت ایسی تھی کہ بہت سے سپاہیوں کے دل لرز اٹھے۔ آپؑ نے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے پیش قدمی کی۔ عرب کے جنگی آداب میں انفرادی شجاعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور حضرت عباسؑ کی بہادری پہلے ہی مشہور تھی۔
بالآخر آپؑ فرات کے کنارے پہنچ گئے۔
وہی فرات جس کی موجیں سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ ٹھنڈا پانی کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔ کئی دنوں کی پیاس کے بعد پانی آپؑ کے سامنے تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے پانی ہاتھ میں لیا۔ شدتِ پیاس اپنی جگہ موجود تھی۔ جسم گرمی سے جھلس رہا تھا۔ ہونٹ خشک تھے۔ مگر اسی لمحے آپؑ کو امام حسینؑ اور خیموں میں موجود بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔
یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین ایثار کے مناظر میں سے ایک ہے۔
آپؑ نے پانی کو دیکھا، مگر خود نہ پیا۔ گویا دل نے کہا کہ جب مولا حسینؑ اور اہلِ حرم پیاسے ہیں تو عباسؑ کیسے سیراب ہو سکتا ہے؟ چنانچہ آپؑ نے پانی واپس دریا میں بہا دیا اور مشکیزہ بھر لیا۔
یہ محض پانی نہ تھا بلکہ امید تھی۔ خیموں میں موجود بچوں کے لیے زندگی کی ایک کرن تھی۔ حضرت عباسؑ مشکیزہ بھر کر واپس روانہ ہوئے۔ اب دشمن کو احساس ہو چکا تھا کہ اگر یہ پانی خیموں تک پہنچ گیا تو ان کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔
چنانچہ چاروں طرف سے حملے شروع ہو گئے۔
تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے آپؑ کے دائیں بازو پر وار کیا گیا۔ شدید زخم لگا اور بازو جدا ہو گیا۔ مگر حضرت عباسؑ نے علم اور مشکیزے کو سنبھالے رکھا۔ آپؑ کی توجہ اپنی ذات پر نہیں بلکہ پانی کو خیموں تک پہنچانے پر تھی۔
پھر دوسرا حملہ ہوا اور بایاں بازو بھی جدا کر دیا گیا۔ عام انسان کے لیے اس مقام پر لڑائی جاری رکھنا ناممکن ہوتا، مگر حضرت عباسؑ کی استقامت غیر معمولی تھی۔ آپؑ نے مشکیزے کو اپنے جسم کے ساتھ محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور آگے بڑھتے رہے۔
گرد و غبار سے فضا بھر گئی تھی۔ دشمن ہر سمت سے حملہ آور تھا۔ تیر برس رہے تھے۔ اسی دوران ایک تیر مشکیزے پر لگا اور پانی بہنے لگا۔ وہ پانی جسے اہلِ حرم تک پہنچنا تھا، ریت پر بکھرنے لگا۔
یہ منظر حضرت عباسؑ کے لیے شاید جسمانی زخموں سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔
پھر ایک اور ضرب سر پر لگی۔ آپؑ گھوڑے سے زمین پر آ گئے۔ میدانِ کربلا کی ریت آپؑ کے خون سے رنگین ہو گئی۔ علم گر چکا تھا، مگر وفاداری کا پرچم ہمیشہ کے لیے بلند ہو گیا تھا۔
روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباسؑ نے امام حسینؑ کو آواز دی۔ امام حسینؑ اپنے بھائی کی طرف آئے۔ یہ لمحہ تاریخ کے سب سے دردناک مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ دو بھائی، جنہوں نے بچپن مدینہ کی گلیوں میں گزارا تھا، آج کربلا کی ریت پر آخری بار ایک دوسرے کے قریب تھے۔
حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ نے ایک ایسا جملہ فرمایا جو تاریخ میں محفوظ ہو گیا: "اب میری کمر ٹوٹ گئی۔"
یہ الفاظ صرف بھائی کی جدائی کا اظہار نہیں تھے بلکہ اس عظیم ستون کے گر جانے کا اعلان تھے جو پورے قافلے کے حوصلے کا مرکز تھا۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت کو صرف ایک جنگجو کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ آپؑ وفاداری، ایثار، اطاعت اور خدمت کی ایسی مثال ہیں جو انسانی تاریخ میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپؑ نے اپنی جان کسی ذاتی مقصد کے لیے نہیں دی بلکہ اپنے امام، اپنے دین اور حق کے لیے قربان کی۔
فرات کا واقعہ دراصل پانی کی جنگ نہیں تھا۔ یہ وفاداری اور خود غرضی کے درمیان معرکہ تھا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں ہو کر پانی پر پہرہ دیا، اور دوسری طرف ایک ایسا انسان تھا جس نے شدید پیاس کے باوجود پانی کو اپنے ہونٹوں تک نہ آنے دیا۔
کربلا کے بعد صدیوں گزر چکی ہیں۔ فرات آج بھی بہتا ہے۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد ہیں، کھجوروں کے باغ لہلہاتے ہیں اور قافلوں کی جگہ جدید سڑکیں آ چکی ہیں۔ مگر جب بھی محرم آتا ہے، تاریخ کا وہ منظر پھر زندہ ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ایک بلند قامت علمبردار آ جاتا ہے جو فرات کے کنارے کھڑا ہے، ہاتھ میں پانی ہے، مگر دل میں حسینؑ کی محبت اس قدر غالب ہے کہ اپنی پیاس بھول جاتا ہے۔
حضرت عباسؑ کا علم آج بھی صرف ایک جھنڈا نہیں بلکہ وفا کی علامت ہے۔ یہ اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ حق کے راستے میں قربانی دی جا سکتی ہے، مگر اصولوں کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا کی ریت پر گرنے والا وہ علم بظاہر زمین پر آ گیا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ہمیشہ کے لیے انسانیت کے آسمان پر بلند ہو گیا۔ اور فرات کی موجیں آج بھی گویا یہی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا میں بہت سے بہادر گزرے، بہت سے سپہ سالار آئے، مگر وفاداری کا جو باب حضرت عباسؑ نے اپنے خون سے لکھا، اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں بہت کم ملتی ہے۔
Courtsy تنہائی اور میں
0 comments |









